ابوجہل جب نکلا تو محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کو دیکھتے ہی اس کا رنگ فق ہوگیا اور

ایک دفعہ اراش کا ایک شخص کچھ اونٹ لے کر مکہ آیا.ابوجہل نے اس کے اونٹ خرید لیے اور جب اس نے قیمت طلب کی تو ٹال مٹول کرنے لگا.
اراشی نے تنگ آکر ایک روز حرم کعبہ میں قریش کے سرداروں کو جاپکڑا اور مجمع عام میں فریاد شروع کردی.
دوسری طرح حرم کے ایک گوشے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے.
سرداران قریش نے اس شخص سے کہا:”
ہم کچھ نہیں کرسکتے،
دیکھو وہ صاحب جو اس کونے میں بیٹھے ہیں ان سے جاکر کہو، وہ تم کو تمہارا روپیہ دلوا دیںگے”.
اراشی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلا اور قریش کے سرداران نے آپس میں کہا:”
آج لطف آئے گا” .
اراشی نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی شکایت بیان کی. آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے اور اسے ساتھ لے کر ابوجہل کے مکان کی طرف روانہ ہوئے.
سرداروں نے پیچھے ایک آدمی لگادیا کہ کچھ گذرے اس کی خبر لا کر دے.
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ابوجہل کے دروازے پر پہنچے اور کنڈی کھٹکٹھائی .
اس نے پوچھا :”
کون”.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : ”
محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )” .
وہ حیران ہوکر باہر نکل آیا.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا :”
اس شخص کا حق ادا کرے”.
اس نے کوئی چون و چرا نہ کی.
سیدھا اندر گیا اور اس کے اونٹوں کی قیمت لا کر اس کے ہاتھ میں دے دی.
قریش کا مخبر یہ حال دیکھ کر حرم کی طرف دوڑا اور سرداروں کو سارا ماجر سنایا اور کہنے لگا کہ
واﷲ!
آج وہ عجیب معاملہ دیکھا ہے جو کبھی نہ دیکھا تھا.
ابوجہل جب نکلا تو محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کو دیکھتے ہی اس کا رنگ فق ہوگیا اور جب محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اس سے کہا کہ اس کا حق ادا کردے تو یہ معلوم ہوتا تھا کہ جیسے اس کے جسم میں جان نہیں ہے.
(ا بن ہشام)
( ”صحیح اسلامی واقعات ”، صفحہ نمبر 12)

Shery Reviewer Asked on April 5, 2015 in Arts.
Add Comment
0 Answers

Your Answer

By posting your answer, you agree to the privacy policy and terms of service.