Dev Janson Kalbi

دیو جانسن کلبی یونان کا ایک عجیب کردار تھا‘ تاریخ اسے نسل انسانی کا سب سے بڑا متوکل اور سب سے بڑا قناعت پسند دانشور کہتی ہے‘ وہ آنکھوں سے اندھا لیکن دل ودماغ سے روشن شخص تھا‘ اس کے پاس ایک کتا تھا‘ یہ کتا اس کا ساتھی بھی تھا اور راہبرو رہنما بھی‘ اس کتے کی نسبت سے لوگ اسے ’’کلبی‘‘ کہتے تھے‘ دیو جانسن کلبی ارسطو اور سکندر اعظم کے دور میں تھااور اس کے بارے میں عجیب دلچسپ واقعات مشہور ہیں‘ مثلاً کہا جاتا ہے وہ ایک دن دوپہر کے وقت ہاتھ میں چراغ لے کر ایتھنز کی گلیوں میںگھوم رہا تھا‘ کسی نے اس سے پوچھا ’’دیو جانسن تم چراغ لے کر کیا تلاش کررہے ہو‘‘ اس نے مسکرا کر جواب دیا ’’میں آدمیوں کے ہجوم میں انسان تلاش کررہا ہوں‘‘ اس زمانے میں ارسطو نے انسان کے بارے میں اپنا مشہور فلسفہ دیا تھا‘ ارسطو کا کہنا تھا ’’ انسان ایک ایسا جانور ہے جو دو ٹانگوں پرچلتا ہے اور اس کی قامت سیدھی ہوتی ہے‘‘ یہ فلسفیوں ‘عالموں اور علم پرستوں کا دورتھاچنانچہ ارسطو کا یہ فلسفہ گلی گلی‘ محلے محلے دہرایا جانے لگا‘ جہاں دو لوگ جمع ہوجاتے وہ آپس میں ’’ارسطو کے انسان‘‘ کے بارے میں گفتگو شروع کردیتے‘ ایک دن ارسطو اپنے شاگردوں میں گھرا بیٹھا تھا‘ دیو جانسن کلبی وہاں آیا‘ اس نے شاگردوں کو دائرہ وسیع کرنے کا حکم دیا‘ ان کے درمیان بیٹھا‘ بغل سے ایک مرغ نکالا ‘ مرغ کو زمین پر کھڑا کیا‘ ایک ہاتھ سے مرغ کی ٹانگیں زمین کے ساتھ لگائیں‘ دوسرے ہاتھ سے مرغ کی چونچ پکڑی‘ چونچ کو کھینچ کر آسمان کی طرف اٹھا دیا‘ مرغ سیدھا کھڑا ہوگیا‘ اس کے بعد دیو جانسن کلبی نے ارسطو کے شاگردوں کی طرف دیکھا اور قہقہہ لگا کربولا ’’یہ ہے تمہارے استاد کا انسان‘‘ ارسطو کے منہ سے بھی قہقہہ نکل گیا‘ دیو جانسن کلبی کی درویشی اور سادگی پورے یونان میں مشہور تھی‘ وہ عموماً شہر سے باہر رہتا تھا‘ اگر اسے کھانے کیلئے کچھ مل جاتا تھا تووہ کھا لیتا تھابصورت دیگر فاقے کرتا اور اللہ کا شکر ادا کرتا‘ وہ کسی حد تک توحید پرست بھی تھا ‘اس کا کہنا تھا اس کائنات کی تمام چیزیں دیوتائوں نے بنائی ہیں لیکن دیوتائوں کو کس نے بنایا ہے ! وہ کہتا تھا جس طاقت نے دیوتا بنائے ہیں وہی اس کائنات کا اصل مالک ہے اور میں اس مالک کو ماننے والا ہوں‘ اس کا کہنا تھا دنیا کا سامان و اسباب انسان کو اصل خوشی سے محروم کردیتا ہے اگر انسان زندگی میں حقیقی خوشی پانا چاہتا ہے تو اسے دنیا کے سازو سامان سے کنارہ کشی اختیار کرنی چاہیے‘ اس کا کہنا تھا ہمارا گھر بار‘ہمارے بیوی بچے ‘شہر ‘ لوگ ‘ عزیز رشتے دار ‘روایات ‘قوانین اور ضابطے ہماری آزادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں‘انسان اس وقت تک پوری طرح آزاد نہیں ہوسکتا جب تک وہ دنیا داری سے رہائی نہیں پالیتا‘ اس کا کہنا تھا انسان کی ضروریات انتہائی مختصر ہیں لیکن انسان ضروریات کے دائرے کو اتنا پھیلا دیتا ہے کہ پوری زندگی کے سفر کے باوجود دائرہ ختم نہیں ہوتا‘ اس کا کہنا تھا بہادر وہ شخص ہوتا ہے جو اپنے اندر کے خوف کو شکست دے دے‘ دیو جانسن کلبی شہر سے نکل کر جنگل میں آباد ہوگیا‘ کسی نے اس سے پوچھا ’’ تمہیں جنگلی جانوروں سے ڈر نہیں لگتا‘‘ اس نے مسکرا کر جواب دیا ’’انسان کا دشمن انسان ہے جانور نہیں‘‘ ایک اور جگہ لکھا ہے ’’انسان کو جانوروں سے نہیں انسان سے خطرہ ہے‘‘ وہ کہا کرتا تھا ’’انسان سے بچو‘ انسان کی درندگی ہزار درندوں پر بھاری ہے‘‘ بڑا مشہور واقعہ ہے سکندر اعظم اس کی تلاش میں شہر سے باہر نکلا‘ دیو جانسن کلبی ایک بیابان میں بیٹھا دھوپ تاپ رہا تھا‘ سکندر حاضر ہوا اور نہایت عاجزی انکساری سے عرض کیا ’’یا استاد میں آپ کی خدمت کرنا چاہتا ہوں‘‘ دیو جانسن نے مسکرا کر جواب دیا ’’خواہشوں کا غلام بادشاہ ایک آزاد شخص کی کیا خدمت کرسکتا ہے‘‘ سکندر اعظم نے اصرار جاری رکھا جب وہ تنگ آگیا تو اس نے قہقہہ لگایااور سکندر سے کہا ’’بادشاہ سلامت آپ میری دھوپ روک کر کھڑے ہیں‘ مہربانی فرما کر میرے آگے سے ہٹ جائیں‘ مجھے سورج کی مہربانیوں سے لطف اندوز ہونے دیں‘‘ دیو جانسن کلبی آخری عمر میں توکل اور قناعت کی انتہائی سیڑھی پر چڑھ گیا‘ اس کے پاس مٹی کا ایک پیالہ ہوتا تھا‘ وہ اس سے پانی پیتا تھا‘ وہ اس پیالے سے پلیٹ کا کام بھی لیتا تھا ‘ ایک دن وہ پانی پینے کیلئے ندی پر گیا وہاں اس نے ایک جانور دیکھا‘ جانور ٹہلتا ہوا جنگل سے نکلا‘ ندی کے کنارے پہنچا‘ پانی پر جھکا‘ پانی پیا اور ٹہلتا ہوا جنگل میں واپس چلا گیا‘ دیو جانسن نے سینے پر ہاتھ مار کر کہا ’’ تم پر تف ہو‘ ایک جانور بھی توکل میں تم سے کتنا آگے ہے‘ تم ابھی تک پیالے کی محتاجی سے آزاد نہیں ہوسکے‘‘ اس نے اسی وقت پیالہ پتھر پر مارا اور کرچیاں اٹھا کر ندی میں پھینک دیں اور اس کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کیلئے پیالے کی محتاجی سے بھی آزاد ہوگیا۔
دیو جانسن کلبی سارا دن جنگلوں اور ویرانوں میں مارا مارا پھرتا تھا اور شام کوواپس اپنے ٹھکانے پر آجاتا تھا‘ یہ ٹھکانہ کچی مٹی کا ایک چھوٹا ساٹب تھا‘ وہ ٹب میں لیٹتا‘ ٹانگیں باہر لٹکاتا اور آسمان کے تارے گنتا گنتا سوجاتا‘ یہ ٹب اس کی کل کائنات تھا‘ ایک دن سردیوں کی سنہری دوپہر تھی‘ دیو جانسن کلبی ٹپ میں لیٹا تھا‘ ایتھنز کا ایک ہرکارہ اس کے پاس آیا اور اسے آکر خوشخبری سنائی ’’مبارک ہو‘ سکندر اعظم پوری دنیا فتح کرکے واپس ایتھنز آرہا ہے‘‘ دیو جانسن کلبی نے قہقہہ لگایا اور اس کے بعد وہ تاریخی فقرہ کہا جو آنے والے زمانوں میں دیو جانسن کی پہچان بن گیا‘ جس نے آج پانچ ہزار برس بعد بھی دیو جانسن کلبی کو زندہ رکھا ہواہے‘ اس نے کہا ’’اگر انسان قناعت پسند ہو تو وہ مٹی کے اس ٹب میں بھی خوش رہ سکتا ہے لیکن اگر وہ حریص ہوجائے تو یہ پوری کائنات بھی اس کیلئے چھوٹی ہے‘‘
دیو جانسن کلبی کا یہ فقرہ مجھے کل سے یاد آرہا ہے ‘ کل میرے ایک دوست نے مجھ سے پوچھا تھا جب انسان کیلئے ایک گاڑی‘ پانچ سے آٹھ مرلے کا ایک مکان‘ پچاس ہزار روپے ماہانہ اورایک ٹیلی فون کافی ہوتا ہے تو وہ اس کے باوجودکرپشن کیوں کرتا ہے‘ اس نے پوچھا‘ہمارے حکمران پچاس پچاس گاڑیاں‘ چار چار جہاز‘ سو‘سو ایکڑ کے محلات اور چالیس چالیس کروڑ کے سیکرٹ فنڈز کیوں رکھتے ہیں‘ ان کے دل کیوں نہیں بھرتے‘ میں نے اسے دیو جانسن کلبی کا یہ فقرہ سنایا اور اس کے بعد عرض کیا’’ انسان اگر مطمئن ہونا سیکھ لے تو وہ کچی مٹی کے ٹب میں بھی خوش گوار زندگی گزار سکتا ہے لیکن اگر اس کی آنکھوں میں حرص آجائے تو ساری دنیا کی گاڑیاں‘ ساری دنیا کے جہاز‘ ساری دنیا کے محلات‘ ساری دنیا کا سونا چاندی‘ ڈالر اور ساری دنیا کا اقتدار مل کر بھی اس کی خواہش نہیں مٹا سکتا‘ وہ اپنی پوری زندگی مزید سے مزید اور زیادہ سے زیادہ کی تلاش میں گزار دیتا ہے‘ میں نے اس سے عرض کیا بد قسمتی سے ہمارے حکمرانوں‘ ہماری رولنگ کلاس کا تعلق لوگوں کے اس گروہ سے ہے‘ جن کی آنکھیں اور جن کے معدے حرص کی مٹی سے بنتے ہیں لہٰذا یہ لوگ کبھی سیر نہیں ہوں گے ‘ یہ لوگ اپنے کفن تک پر جیبیں لگوائیں گے اور یہ دوزخ میں بھی ٹھنڈا پانی مانگیں گے‘‘

admin Worker Asked on April 1, 2016 in Biography.
Add Comment
0 Answers

Your Answer

By posting your answer, you agree to the privacy policy and terms of service.